اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل سعود کا تختہ الٹنے کی غرض سے تشکیل یافتہ تنظیم "اخوان المسلمین برائے آزادی حجاز" نے مکہ مکرمہ میں مطلق العنان حکمران خاندان آل سعود کی طرف سے نمائشی "اسلامی یکجہتی کانفرنس" پر اپنے رد عمل کے اظہار کے لئے ایک بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ آل سعود کو نمائشی اجلاس اور کانفرنسیں منعقد کرنے کی بجائے اپنے عوام کو ان کے لوٹے ہوئے حقوق واپس لوٹا دے۔اخوان المؤمنین نے اپنے بیان میں آل سعود خاندان کو مؤمنین کا کل دشمن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تاریخ ایک بار پھر دہرائی جارہی ہے اور وہ خاندان جو کل تک مؤمنین کے خلاف برسرپیکار تھا آج اپنی فتوحات اور کامیابیوں پر فخر کرتا ہے؛ وہی خاندان جو کل تک عالمی استکبار و استعمار کی حمایت کررہا تھا آج سنیوں کے حامی ہونے کا دعوی کررہا ہے اور سنی دلیروں کا حامی و مددگار کہلواتا ہے۔ اخوان المؤمنین تحریک نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے: کیا بہتر نہ تھا کہ یہ بدعنوان اور لٹیرا خاندان دنیاوالوں کو اسلامی یکجہتی کی ہنگامی کانفرنس میں بلانے اور ان کو اتحاد کی دعوت دینے کی بجائے بلادالحرمین کے اندرونی مسائل کی جانب توجہ دیتا، ہزاروں سیاسی اسیروں کو اذيتکدوں سے رہا کردیتا اور قومی دولت کو عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق اپنے شہریوں کے درمیان تقسیم کرتا؟ کیا بہتر نہ تھا کہ یہ غدار اور خائن خاندان ـ جس نے اپنی تاریخ میں انتخابات کا منہ تک نہیں دیکھا ہے ـ اپنے اندرونی مسائل و معاملات حل کرنے کا اہتمام کرتا اور اپنے مظلوم عوام کے حقوق کو اہمیت دیتا؟ کیا بہتر نہ تھا کہ یہ ظالم و ستمگر خاندان، دوسروں کو جمہوریت کی دعوت دینے کی بجائے جزیرہ نمائے عرب میں ہی جمہوریت نافذ کرتا؟کیا بہتر نہ تھا کہ یہ مجرم خاندان دوسرے اسلامی اور غیر اسلامی علاقوں میں ہمارے برادران کی حمایت کا دعوی کرنے کی بجائے بلادالحرمین اور جزیرہ نمائے عرب میں ہی اہل سنت و الجماعت کے مسائل حل کرتا اور ان کی مدد کرتا؟ تحریک اخوان المؤمنین نے اپنے بیان میں زور دے کر کہا: یہ وہ موقع ہے جس سے ہم اپنے چھینے گئے حقوق کو واپس لینے کے امو پر زور دیتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ہم اپنے مجاہد بھائیوں صالح علماء کو ـ جو آل سعود کے اذيتکدوں میں قید ہیں ـ کو کبھی نہيں بھولیں گے۔
۔۔۔۔۔۔
/110